20 ستمبر 2026 - 15:28
فرانس کے قدیم ترین زیرِاستعمال مسجد نے اسلام کی آمد کی تاریخ پر نئی بحث چھیڑ دی

بحرِ ہند کے جزیرے مایوت میں واقع مسجد تسینغونی کی آثارِ قدیمہ کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس خطے میں اسلام کی موجودگی سولہویں صدی کے سلاطین کے دور سے نہیں بلکہ بارہویں صدی عیسوی میں سمندری تجارت کے ذریعے شروع ہوئی تھی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یورپ کی سرزمین سے ہزاروں کلومیٹر دور بحرِ ہند میں واقع جزیرہ مایوت کے مغربی ساحل پر مسجد تسینغونی آج بھی قائم ہے، جہاں نماز ادا کی جاتی ہے۔ یہ فرانس کی قدیم ترین مسجد ہے جو اب بھی زیرِاستعمال ہے۔

خبر رساں ایجنسی فرانس پریس کے مطابق، اس مسجد کی اہمیت صرف مذہبی حوالے سے نہیں بلکہ اس کی دیواریں اور تعمیراتی تہیں کوموروس کے جزائر میں انسانی آبادی اور ثقافتی تبادلوں کی طویل تاریخ کا پتھریلا ثبوت بھی پیش کرتی ہیں۔

اس تاریخی ورثے کی دستاویز بندی کے لیے فرانس کے قومی ادارے برائے حفاظتی آثارِ قدیمہ کی تحقیق (Inrap) نے 2023ء میں مسجد کے اندر تفصیلی کھدائیاں کیں۔ یہ اقدام مسجد کی بحالی کے ایک وسیع منصوبے کا حصہ تھا۔ مسجد کو 2015ء میں باضابطہ طور پر فرانس کے تاریخی آثار کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

ان تحقیقات کے نتائج نے سابقہ آثارِ قدیمہ کی دریافتوں کی تصدیق کی اور اس مقام کی تاریخ کے مختلف ادوار کو واضح کیا۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انسانی آبادی کی جڑیں بارہویں صدی عیسوی تک پہنچتی ہیں۔

سلاطین سے پہلے اسلام کی آمد

روایتی بیانیوں میں ہمیشہ یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ سولہویں صدی عیسوی میں سلاطین نے شہر تسینغونی کو اپنی حکومت کا دارالحکومت بنایا اور اسی دور میں اسلام اور تہذیب کو جزیرہ مایوت میں متعارف کرایا۔

تاہم، ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں نے اس سے مختلف کہانی سامنے رکھی۔ ان تحقیقات سے ثابت ہوا کہ سلاطین کی حکومت کے قیام سے کئی صدیوں پہلے ہی اسلام اور مسجد اس خطے میں موجود تھے۔

فرانس کے قومی ادارے برائے مشرقی زبانوں اور تہذیبوں (Inalco) کے تاریخ دان اور محقق مارسیال بولی کے مطابق، اسلام گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی کے دوران سمندری تجارتی نیٹ ورک کے ذریعے بتدریج جزیرہ مایوت میں پہنچا۔

ان کا خیال ہے کہ عمان اور ممکنہ طور پر ایران سے آنے والے ملاح اس خطے میں اسلام لے کر آئے ہوں گے۔ یہ وہ دور تھا جب علاقے میں روایتی روحانی عقائد کا غلبہ تھا۔

مرجانی تعمیرات؛ بحرِ ہند کی تاریخ کا امین

وقت گزرنے کے ساتھ اس مقام کی تعمیراتی ساخت بھی مذہبی اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتی رہی۔

بارہویں صدی عیسوی میں ابتدائی آبادی کے بعد یہاں پتھروں سے ایک مسجد تعمیر کی گئی، جس کے آثار چودہویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کی تعمیر میں ساحلی ریتلا پتھر، بیسالٹ اور مرجان استعمال کیے گئے تھے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق، یہ مواد خطے کے لیے ایک اہم تاریخی علامت ہے، کیونکہ اسی دور میں مشرقی افریقہ کے ساحلی علاقوں کی مساجد میں بھی اس کا استعمال دیکھا گیا ہے۔

سولہویں صدی عیسوی میں سیاسی و اقتصادی تبدیلیوں اور شاہی حکومت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوش حالی کے دوران یہ عمارت اپنی تعمیراتی ترقی کے عروج پر پہنچی۔ اس کا رقبہ کئی گنا بڑھایا گیا اور 1538ء میں مسجد میں ایک تاریخی محراب تعمیر کی گئی، جس پر اس دور کے حکمران سلطان علی محمد کا نام درج ہے۔

قرآن کا ورق اور لکڑی کی کیل؛ مختلف عقائد کا امتزاج

تحقیق کے دوران دریافت ہونے والی اشیا کے جائزے سے معلوم ہوا کہ جزیرہ مایوت کے باشندے شافعی مذہب سے وابستہ تھے۔

مسجد اور شہر تسینغونی اٹھارہویں صدی عیسوی تک خطے کے اہم مراکز میں شامل رہے۔ تاہم، پڑوسی جزیرے انژوان کے ساتھ علاقائی کشیدگی اور بعد ازاں 1841ء میں جزیرہ مایوت کی فروخت کے بعد فرانسیسی اقتدار میں شامل ہونے کے نتیجے میں ان کی اہمیت کم ہوگئی۔

انسانی معاشروں کے مطالعے کے حوالے سے سب سے حیرت انگیز دریافت اس منصوبے کے سائنسی نگران ژوستین سعدی نے بیان کی، جس کا تعلق اسلام اور مقامی عقائد کے درمیان ثقافتی امتزاج سے ہے۔

محققین کو مسجد کی ایک دیوار کے اندر قرآن پاک کا ایک ورق ملا، جو عمارت کے ڈھانچے کی ایک لکڑی کی کیل کے ساتھ دفن تھا۔ امکان ہے کہ یہ عمل عمارت کی قدیم مرمت کے دوران انجام دیا گیا ہو۔

یہ منفرد امتزاج مقامی جادوئی یا عوامی عقائد سے وابستہ حفاظتی روایت اور قرآن کے متن پر مبنی اسلامی عقیدے کے باہمی میل جول کی عکاسی کرتا ہے۔

ژوستین سعدی نے زور دیا کہ آسٹرونیشیائی، بانٹو اور سواحلی تہذیبی جڑوں کا یہ ہم آہنگ امتزاج ہی جزیرہ مایوت کے باشندوں کی گہری ثقافتی شناخت تشکیل دیتا ہے۔ ان کے مطابق، اس جزیرے کی قدیم مسجد بحرِ ہند کی ثقافتی دولت اور تنوع کا ایک زندہ خزانہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha